اوسلو،9؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ناروے کی نوبل کمیٹی نے رواں سال 2020 کے لئے امن کا نوبل انعام اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سال 1961 سے دنیا بھر میں بھوک کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے اور یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ غذائی تحفظ کے ذریعے لوگوں کو بنیادی توانائی فراہم کی جا سکے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس کا امن کا نوبل انعام اتھوپیا کے وزیراعظم علی احمد ابی کو دیا گیا تھا۔ اس سال امن کے نوبل امن انعام کے لیے مجموعی طور پر 318 لوگوں اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس میں 211 افراد اور 107 مختلف تنظیمیں شامل ہیں۔ انعام کے لئے نامزد افراد میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام بھی شامل ہیں۔
دیگر ناموں میں بلیک لائیو میٹر مومنٹ، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنالسٹس، رپورٹر ود آؤٹ بارڈرز، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی تنظیم برائے مہاجرین کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ سویڈن کی کم سن لڑکی گریتا تونبرگ بھی امن کے نوبل انعام کے لئے نامزد افراد میں شامل ہیں۔
نوبل انعام کے تحت ایک طلائی تمغہ، ایک کروڑ سویڈش کرونا (تقریباً 8.27 کروڑ روپے) فراہم کئے جاتے ہیں۔ سویڈش کرونا سویڈن کی کرنسی ہے۔ یہ ایوارڈ سویڈش سائنسدان الفریڈ نوبل کے نام پر دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل اس سال کے کیمسٹری اور فزکس سمیت کئی شعبوں کے نوبل انعام کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
فزکس کا نوبیل پرائز 2020 راجر پینروز، رین ہارڈ گینزیل اور اینڈریاگیز کو دیا گیا ہے۔ کیمسٹری کا نوبل انعام نوبل انعام فرانسیسی خاتون پروفیسر ایمانوئیل چارپینٹیئر اور امریکی بائیو کیمسٹ جینیفر اے ڈوڈنا کو دیا گیا ہے۔ نوبیل انعام برائے طب 3 امریکی شخصیات کو دیا گیا ہے جن میں الٹر، ہیوگٹن اور رائس شامل ہیں۔ جبکہ امریکی شاعرہ لوئس گلک کو اس بار کے ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔